23 نومبر، 2015

محبت، دوستی اور آگہی


٭ ایک عظیم ترین سائنس دان، ایک سرجن سے، جس کو نوبل انعام سے نوازا گیا تھا، پوچھا گیا ''جب آپ کو نوبل انعام سے سے نوازا جا رہا تھا تو آپ مسرور دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ کیا وجہ تھی''۔؟
٭ اس نے جواب دیا ''میں ہمیشہ خواہش کرتا تھا کہ ایک ''رقاص'' بنوں۔
٭ میری کبھی یہ خواہش نہیں تھی کہ میں سرجن بنوں اور اب نہ صرف میں ایک سرجن بن چکا ہوں بلکہ میں ایک بے حد کامیاب سرجن ہوں اور اب نہ صرف میں ایک سرجن بن چکا ہوں بلکہ میں ایک بے حد کامیاب سرجن ہوں اور یہ ایک بوجھ ہے۔
٭ میں تو صرف ایک رقاص بننے کا خواہش مند تھا اور میں ایک رقاص ہی رہا ہوں۔ یہ ہے میری بے چینی۔
٭ جب کبھی میں کسی کو رقص کرتے ہوئے پاتا ہوں، تو میں بے چارگی محسوس کرتا ہوں۔ یوں لگتا ہے ''جہنم میں گر گیا ہوں۔
٭ یہ نوبل انعام بھلا میرے کس کام آئے گا؟ یہ میرے لیے رقص میں تو نہیں ڈھل سکتا، یہ مجھے رقص کی تحریک تو نہیں دے سکتا۔
٭ یاد رکھو اپنے اندر کی آواز پر کان دھرو، یہ تمھیں خطرات کی طرف لے جائے، تو پھر خطرے میں کود پڑو، لیکن اپنے اندر کی آواز کے ساتھ سچے رہو۔
٭ اس صورت میں امکان ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا تم اندرونی طمانیت اور آسودگی کے احساس کے ساتھ پوری کائنات کے ساتھ رقص کرنے لگو۔
٭ ہمیشہ یاد رکھو، پہلی چیز تمہاری اپنی ذات ہے۔ دوسروں کو اجازت مت دو کہ وہ تمھارے ساتھ ساز باز کریں اور تمہیں وہ بنائے جو تم نہیں ہو۔
٭ اول تو کسی کی باتوں پر کان مت دھرو، چاہے وہ تم سے کچھ بھی بننے کا کہیں۔
٭ ہمیشہ اپنے اندر کی آواز کو سنو، تم کو وہی بننا ہے جو کچھ کہ بننا پسند کرتے ہو، بصورت دیگر تمھاری زندگی اکارت چلی جائے گی۔
'اوشو'


17 اکتوبر، 2015

Osho On Bagvat Geeta


Rabia Basri -Osho

ایک عظیم صوفی فقیر، رابیعہ بصری کو ایک دن بازار میں دوڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ جس کے ایک ہاتھ میں جلتی شمع اور دوسرے ہاتھ میں پانی کا بھرا ہوا برتن تھا، لوگوں نے اسے روکھا اور کہا: یہ تم کیا کرہی ہو؟ اور کہاں دوڑی جارہی ہو؟ ۔۔۔ اس نے کہا مجھے مت روکھو، میں تمہاری جنت کو آگ لگانے اور تمہاری جہنم کو ٹھنڈا کرنے جارہی ہوں، اور جب تک تمہاری جنت، اور جہنم کو تم سے دور نہ کردیا جائے، تم خدا کو نہیں پا سکتے، کیونکہ خدا ُانہیں نہیں مل سکتا جو خوف، اور لالچ میں جیتے ہوں ۔۔۔۔
اوشو 

One day a great Sufi mystic Rabiya was seen running in the marketplace, with a burning torch in one hand and a pot full of water in the other hand. People stopped her and they said, "What are you doing? Where are you going? We have heard stories about you, that you are a little crazy, but this is going too far!" She said, "Don't stop me! I am going to burn your heaven -- this torch is for that -- and I am going to drown your hell -- this water is for that. And unless your hell and heaven are taken away from you you will not find God, because God cannot be found by those who live in fear or those who live in greed."

19 ستمبر، 2015

اوشو - Osho

Religion - مزہب

ایک ولی آتا ہے. اندر غار میں جا کر مذہب کے عنصر روحانیت کو جانتا ہے. پھر وہ چلا جاتا ہے. پھر مت بچا رہتا ہے. اس کی بنیاد پر ایک ثقافت تیار ہوتی ہے. ثقافت کے پھول کھلتے ہیں. دور ترتیب میں ثقافت اہم ہو جاتی ہے. روحانیت آلات ہو جاتا ہے. اور پھر ایک ولی کو، ایک زندہ سنت، (ولی) کو اس زمین پر آنا پڑتا ہے. پھر انگارے جلانے ہوتے ہیں. پھر گہری جلانا ہوتا ہے.
جو گہری کبھی جلا تھا، اس کی بنیاد پر جو نغمات رہ گئے تھے، وہ پرانے پڑ جاتے ہیں. پھر ایک نیا چراغ جلتا ہے. نئی روشنی آتی ہے. نیا گیت پھٹتا ہے. نئی دریا بہتی ہے. سب کچھ نیا ہو جاتا ہے. تو کہیں گے کہ تم جانو یا نہ جانو، تم سب مذہب کے راستے پر ہی ہو. کوئی شخص ایسا نہیں جو مذہب کے راستے پر نہیں ہے.
یہ اور بات ہے کہ اسے معلوم ہے، یا نہیں جانتے. لیکن مذہب کا عنصر کیا ہے؟ مذہب کا اصل کیا ہے؟ مل پہنچنا ہے ہمیں؟ منزل کہاں ہے؟
''اس بات کو بتانے کے لئے ہی سنت، ولی اس زمین پر آتا ہے. سوامی وویک آنند جی بھی آئے. اور یہ یاد دلانے کے لئے آتا ہے ولی کہ تم کون ہو؟
جو ہمارے اندر ہے، اس کی طرف ہم پیٹھ کر جیتے ہیں. مہرشی نارد کی طرح پھر کوئی ولی آتا ہے ہمارے درمیان. کبھی بدھ، کبھی مہاویر، کبھی کرشن، کبھی رام، کبھی گرنانك، کبھی بلے، کبھی کبیر، فرید کبھی رحیم بن کر آتا ہے اور یہی بتانے کے لئے آتے ہیں سنت کہ تم کون ہو۔۔۔۔؟
-
اوشو
www.facebook.com/Oshourdu


Osho




--- ‫#‏یتیم‬ ---
-
یہ کائنات ہماری ہے، یہ ہمارا گھر ہے، ہم کوئی یتیم تھوڑے ہیں،
یہ دھرتی ہماری ماں ہے، یہ آسمان ہمارا باپ ہے یہ وسیع و عریض
کائنات ہمارے لئے ہے اور ہم اس کے لئے ہیں۔۔۔۔
-
‫#‏اوشو‬
سچ کوئی بانٹا نہیں جاسکتا اس میں اشتراک بھی نہیں ہوسکتا اس کو صرف محسوس کرسکتے ہیں۔۔۔۔

Real Face - حقیقی چہرہ

''Real Face''
"You can see the real face of Hindus and Muslims only in the times of any Hindu-Muslim riots. ( Some of them) are like murderers. They might look pious, doing worship in their worship-places , but as soon as any Hindu-Muslim riot happens, all their piousness vanishes in no time. Like it was never ever there. They get ready to kill and rape anyone. "


Meditation

طلوع آفتاب کا انتظار
-
طلوع آفتاب سے صرف پندرہ منٹ پہلے، جب آسمان میں ہلکی سی روشنی پھیلنے لگے تو صرف دیکھیں اور انتظار کریں۔ جیسے کوئی اپنے محبوب کا انتظار کرتا ہے۔ حیرانی سے، گہرے انتظار میں، امید سے بھرے ہوئے - صرف سورج کو اگنے دیں اور دیکھتے رہے۔ آپ پلکیں جھپكا سکتیں ہیں۔ بس سورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھتے رہے اور ایسا احساس کریں کہ ساتھ ہی ساتھ کوئی چیز اندر بھی اگ رہی ہے۔ جب سورج افق پر آئے تو احساس کریں کہ وہ روشنی نقطہ ناف کو ہے۔ وہاں سورج افق پر آ رہا ہے اور یہاں، ناف کے اندر، وہ آ رہا ہے، آہستہ آہستہ آ رہا ہے۔ وہاں طلوع آفتاب ہو رہا ہے اور یہاں روشنی کی ایک اتربد عروج ہو رہا ہے۔ بس دس منٹ کافی ہے۔ پھر اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ جب پہلے آپ سورج کو کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو اس کا ایک عکاس (نگاٹو) بنتا ہے، تو جب آپ اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں تو، آپ کو سورج کو اندر جگمگاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ اور وہ آپ کو بہت ہی گہرے طور پر تبدیل کرے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوشو
www.facebook.com/OshoUrdu

Just Breathe :

- سانسوں پر توجہ- مراقبہ
1-
جب بھی یاد ہو، دن بھر گہری سانس لو، زور سے نہیں بلکہ سست اور گہری، اورتجربہ کرو، کشیدگی نہیں۔۔
2-
اپنی سانس کو دیکھو، اس کا معائنہ کرو. جب سانسباہر جائے، اس کے ساتھ جاؤ، جب سانس اندر آئے، اس کے ساتھ اندر آؤ. اگر آپ اپنی سانس کو دیکھ سکو تو وہ گہری، پرسکون ہوگی. سانس پر توجہ کرکے تم بالکل مختلف ہوجاؤ گے، کیونکہ سانس کے اس مسلسل احساس سے آپ اپنے دماغ سے دور ہو جاؤ گے. جوتوانائی عمومی سوچ خیال میں گھومتی ہے وہ دیکھنے میں گھومنے لگے گی. یہ توجہ کی کیمیا ہے، جو توانائی سوچنے میں الجھی ہوئی ہے اسے معائنہ میں تبدیل کرنا. کیسےمفکر نہ ہوکر دیکھتا ہو. لیکن اپنی سانس کو دیکھنا آسانی سے کرو، اسے ایک کام مت بناؤ۔
3-
اپنی سانس کو زندگی اور موت دونوں کے تئیں ایک ساتھ ہوش رکھنے کے لئے استعمال میں لاؤ. جب سانس باہر جاتی ہے پھر وہ موت سے جڑی ہوتی ہے، جب اندر آتی ہے تب زندگی سے. ہر سانس کے ساتھ تم مرتے ہو، ہر سانس کےساتھ تم پیدا ہوتے ہو۔۔۔
زندگی اور موت دو الگ چیزیں نہیں ہیں، وہ ایک ہی ہیں. اور فی پل دونوں ہی موجود رہتی ہیں. تو یہ یادرکھو: جب تمہاری سانس باہر جائے، تجربہ کرو کہ تم مر رہے ہو. گھب راؤ مت. اگر آپ گھبراؤگے تو سانس مشغول ہو گی. اسے قبول کرو، باہر جاتی سانس موت ہے اور موت خوبصورت ہے، وہ Relax کرتی ہے.
-
‫#‏اوشو
www.facebook.com/OshoUrdu

خود سے محبت

تم نے کبھی خود سے محبت نہیں کی، اور تم دوسرے کی خواہش کر رہے ہو کہ وہ تمہیں محبت کرے۔ جو غلطی تم نے نہیں کی وہ دوسرا کیوں کرے گا ؟ .. میرے پاس لوگ آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اکیلے میں بور (بیزار) ہو جاتے ہیں- ہمیں کوئی ساتھی چاہئے۔ میں کہتا ہوں جب تم خود ہی اکیلے میں بور جاتے ہو تو دوسرا تم سے گھبرائے۔ جب تم خود اپنے ساتھ رہنے کو راضی نہیں، تو کون آپ کے ساتھ رہنے کو راضی ہوگا؟ اور وہ دوسرا بھی اپنے آپ سے بور ہوا ہوگا تبھی تو تمہاری تلاش میں آ رہا ہے! جب دو بیزار ہوئے آدمی ملتے ہیں تو آپ سوچ سکتے ہو کہ کیا نتائج ہوگا - جو ہر شادی میں ہو جاتا ہے! شوہر بیوی ایسے بیزار بیٹھے رہتے ہیں۔ تم جوڑے (شادی شدہ جوڑا) کے چہرے دیکھ سکتے ہو۔ ان سے زیادہ اداس چہرے آپ کہیں بھی نہیں پاؤ گے۔ اگر آپ مرد کو ذرا خوش دیکھو تو سمجھنا کہ بیوی اس کی نہیں ہے جو پاس بیٹھی ہے- کسی اور کی ہے!
---
اوشو


You have never loved yourself and you desire others to love you. The mistake which you didn't do, why anyone else do that?...
People come to me. They say that they become bore when they are alone - they need friends. I say that if you are bored of yourself then the other too will get bored of you. If you yourself are not ready to live with yourself then who else will be? And that person would also be bored with himself that's why he is coming searching for you. Then when two bored people meet you can think of the result. This is what happens in all the marriages. Couples are sitting bored. See their faces. You won't find such sad faces anywhere else. If you see the man to be happy then understand that that lady sitting next to him is not his wife, but someone else's wife!
Osho: (Hindi Discourse) Tao Upanishad ~


مکوٹہ - Mask

ہر کسی نے مکوٹہ پہنا ہوا ہے
تم آواز تو سن سکتے ہو مگر تم چہرہ نہیں دیکھ سکتے تم اندر چھپے فرد کو نہیں دیکھ سکتے۔۔ لفظ Porsonality سمجھنے جیسا ہے یہ لفظ persona سے آیا ہے اور persona کا مطلب نقاب، بھیس، مکوٹہ ہے۔۔۔ اگر تم ایک شخص ہو، تو تم پہلے سے ہی مردہ ہو۔۔۔۔ جب تم فرد ہوتے ہو تب تم زندہ ہوتے ہو۔۔۔ 
----
اوشو

جرآت مندی

جرآت مندی 

عورتیں یقینا زیادہ جرآت مند ہوتی ہیں دنیا بھر کی ثقافتوں میں یہ عورت ہوتی ہے جو اپنے خاندان کو چھوڑتی ہے اور اپنے شوہر کے خاندان میں جاتی ہے، وہ اپنی ماں کو، اپنے باپ کو، اپنی سہیلوں کو، اپنے شہر کو ہر اس شے کو جس سے وہ محبت کرچکی ہے، جس کے ساتھ وہ پروان چڑھتی ہے، محبت کے لئے وہ ہر شے قربان کر دیتی ہے، مرد ایسا نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔
-
اوشو

محبت اور آبادی

محبت اور آبادی
-
مرد اگر حقیقتا عورت سے محبت کرتا تو دنیا کی آبادی کبھی اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔ مرد کا لفظِ محبت کھوکھلا ہے وہ تو عورت سے تقریباََ جانوروں جیسا سلوک کررہا ہے۔۔۔
-
اوشو

جنگ

جنگ
-
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہر جنگ مردوں نے چھیڑی تھی جبکہ عورت نے بےپناہ مصیبتیں برداشت کیں، حیرت کی بات ہے، مجرم مرد لیکن سزا عورت بھگتتی ہے، عورت اپنے شوہر گنواتی ہے، اپنے بچے گنواتی ہے، اپنی عصمت گنواتی ہے۔۔۔۔ جنگ کا عورت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، وہ تو کھیل سے باہر ہوتی ہے تاہم سب سے زیادہ نشانہ عورت کو بنایا جاتا ہے۔۔
-
اوشو





جنسی کشش

جنسی کشش
-
جنسی کشش صرف انجانے پن میں ہوتی ہے جب تم ایک بار عورت یا مرد کے جسم کا ذائقہ چکھ لیتے ہو تو جنسی کشش ختم ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔
اگر تمہاری محبت جنسی کشش تھی تو ُاسے غائب ہونا ہی تھا.
-
-
‫#‏اوشواردو‬ 

پھل

پھل جس درخت کی گواہی ہوتا ہے جس پر کہ وہ پیدا ہوتا ہے اگر یہ رس سے بھرا ہوا ہوتا ہے، میٹھا ہے، ذایقے دار ہے تو گویا یہ درخت کے بارے میں ہی کچھ کہہ رہا ہے کیونکہ پھل جس بھی شے کا حاصل ہے وہ درخت کی عطا ہے۔۔۔۔
-
اوشو

صرف اشیا کو ملکیت میں لایا جاسکتا ہے، ہستیوں کا ملکیت میں نہیں لایا جاسکتا۔ تم ہستی کے ساتھ ملاپ تو کرسکتے ہو، تم اپنی شاعری، اپنی محبت، اپنی خوبصوتی، اپنا جسم، اپنا ذہن تو بانٹ تو سکتے ہو۔ تم سودے بازی نہیں کرسکتے، تم کسی مرد یا عورت کو ملکیت میں نہیں لاسکتے لیکن سارے کرہ-ارض پر ہر شخص یہی کرنے کی کوشش کرہا ہے۔۔
۔
اوشو

Religion and Nature:

دھرم اور فطرت
-
سنسکرت میں دھرم کا مطلب ہے فطرت، اس کا مطلب کوئی چرچ، مندر، مسجد نہیں اس کا مطلب الٰہیات نہیں۔۔ اس کا سادہ سا مطلب ہے تمہاری فطرت۔۔۔۔۔۔ مثلاََ آگ کا دھرم کیا ہے؟ گرم ہونا! پانی کا دھرم کیا ہے؟ نشیب کو بہنا!! انسان کی فطرت کیا ہے؟ انسان کا دھرم کیا ہے؟ 
اپنے آپ کو جاننا !!
-
اوشو


Sex

جنسی عمل
-
اگر کوئی جبلی قوت مجبور نہ کرے تو کوئی شخص بھی جنسی عمل نہیں کرے گا۔ کوئی شخص مرضی سے جنسی عمل نہیں کرتا سب ہچکچاتے ہوئے اس میں مبتلا ہوتے ہیں اگر جنسی عمل کرنے یا نا کرنے کا فیصلہ آپ پر ہو تو لوگ اسے نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ شاید اسی وجہ سے لوگ دوسروں سے چھپ کر جنسی عمل کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ عمل مضحکہ خیز دیکھائی دیتا ہے اور اس عمل کے دوران انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ انسانیت کے درجے سے گر رہا ہے۔۔۔
-
اوشو

سچا دین

سچا دھرم
-
ننھا بچہ خوف سے آزاد پیدا ہوتا ہے، بچے ہر خوف سے آزاد پیدا ہوتے ہیں اگر معاشرہ انہیں آزاد رہنے میں مدد دے۔ اگر معاشرہ انہیں درختوں اور پہاڑوں پر چڑھنے اور سمندروں اور دریاؤں میں تیرنے میں مدد دے اور اگر معاشرہ انہیں مردہ عقیدے دینے کے بجائے انہیں تلاش و جستجو کرنے دے تو بچے عظیم محبت کرنے والے بن جائیں گے، زندگی سے محبت کرنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہی سچا دھرم ہے۔۔۔۔
-
اوشو

3 ستمبر، 2015

Loazi an interesting Death fact -Osho

لاؤتزو ان انٹرسٹنگ فیکٹ 
-
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ لاؤتزو کی موت کے بارے میں، کسی کو حقیقت حال کا کچھ علم نہیں۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ کب وہ وفات ہوا؟ کہاں اور کیسے اس کا انتقال ہوا؟
ایک مشہور روایت کے مطابق وہ آخری شخص نے لاؤتزو کو جاتے ہوئے دیکھا اور کہا، آپ کہاں جارہے ہیں۔ لاؤزو نے کہا: جہاں سے میں آیا تھا وہاں جارہا ہوں۔۔۔ اس شخص نے کہا لوگ تمارے بارے میں فکرمند ہونگے کہ آپ کہاں چلے گئے اور کیا ہوا ہوگا آپ کو؟ 
لاؤزو نے کہا: میں جب پیدا ہوا تو میری پیدائش پر توڑا شور اٹھا، میں ناواقف تھا۔۔ اب میں نے حکمت حاصل کرلی، اب میرے موت کے بارے میں کوئی آواز (رونے والی) نہیں ہو گی۔
اس دنیاں میں میری موت کی کوئی تاریخ نہیں ہوگی۔۔۔۔ میں خاموشی سے جیا اور اب میں اتنی ہی خاموشی سے روانا (فناء) ہونگا۔۔۔۔۔ لہذا وہ غائب (مرحوم) ہوگئے خوماشی سے۔۔۔۔ اور ان سب نے سمجھ لیا کہ لاؤتزو اور نہ رہا۔
لاؤتزو آخری الفاظ:
اب میں نے حکمت حاصل کرلی ہے، اس لئے میری موت کی کوئی آواز، تاریخ نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔
جب عدم چلتا ہے، تو اس کے پیروں کے نِشان نہیں چھوٹتے،
جب عدم چلتا ہے تو کوئی پیروں کی چاپ زمین پر نہیں پڑتی،
جیسے کوئی پرندہ ہوا میں اڑتا ہے اور کوئی سراغ نہیں چھوٹتا۔
اسی طرح لاؤتزو بھی فناء (Disappear) ہوگیا ۔
-
‫#‏اوشو‬



2 ستمبر، 2015

Orgasm -Osho

سوال:- آپ نے ابھی ابھی کہا ہے کہ orgasm میں عورت اور مرد دونوں کی توانائی لاغر ہوتی ہے، لیکن عام تسلیم ہے کہ جماع منی عورت کو تصدیق ملتی ہے. براہ مہربانی واضح کریں۔-جواب: عام تسلیم ایسی ہی ہوتی ہیں۔ جیسے عام تسلیم ہے کہ سورج طلوع، زمین چپٹی ہے۔ عام تسلیم اکثر ہی غلط ہوتی ہیں۔ کیونکہ عام کا مطلب ہے اوپر سے دیکھی گئی، جسے گہرائی نہیں دیا گیا۔ سورج طلوع دکھائی دیتا ہے۔ اب ہم بخوبی جانتے ہیں کہ سورج نہ نکلتا ہے نہ ڈوبتا۔ لیکن طلوع آفتاب اور غروب آفتاب الفاظ سے انسان کا چھٹکارا کبھی بھی نہیں ہو سکتا ہے. یہ الفاظ جاری رہیں گے. زمین چپٹی دکھائی پڑتی ہے، کہیں بھی گول دکھائی نہیں پڑتی۔ ہزاروں لاکھوں سال تک آدمی مانتا چلا آیا کہ چپٹی ہے۔ آج گول خیال پڑتا ہے تو مشکل ہے، عام دماغ کو بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ گول کس طرح مانیں، جب شائع چپٹی پڑتی ہے۔عام تسلیم اکثر غلط ہوتی ہیں، کیونکہ عام تسلیم دو چیزوں پر مبنی ہوتی ہیں. ایک، جیسا کہ اوپر سے دکھائی دیتا ہے. اور دوسرا، جیسا ہم خیال چاہتے ہیں ویسا ہم مان لیتے ہیں۔ ہم عام سچ کو نہیں ماننا چاہتے۔ ہم جو خیال چاہتے ہیں، اسے حقیقت بنا لیتے ہیں۔ آدمی ریشنل مخلوق کم، ریشنلاجگ مخلوق زیادہ ہے. ایسا نہیں کہ وہ بہت عقل سے غور کرتا ہے، بلکہ ایسا کہ وہ جو بھی غور کرتا ہے، اس کو wits کی شكل دے دیتا ہے. یہ زیادہ آسان پڑتا ہے۔اگر قرون وسطی کے یورپ کی کتابیں ملاحظہ کریں اور ڈاکٹروں کی بھی، تو انہوں نے جو باتیں کہی ہیں وہ آج کا ڈاکٹر بالکل نہیں کہہ رہا ہے۔ قرون وسطی کے ڈاكٹرس کہہ رہے ہیں، بڑا خطرناک ہے کام، کیونکہ قرون وسطی کے آدمی کام مخالف رخ اختیار کئے ہوئے تھا. آج کا ڈاکٹر کہہ رہا ہے کہ بالکل خطرناک نہیں ہے، ایک دم ٹھیک ہے، کیونکہ آج کا آدمی شبھ خیال چاہ رہا ہے. کوئی تعجب نہیں کہ حالات کل پھر بدل جائے. فیشن خیال میں بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اس زمین پر آدمی نے ہزار بار انہی باتوں کو واپس لیا ہے، جن چیزوں کو اس نے چھوڑا ہے یا جن بور کیا گیا ہے. پھر ان کے برعکس باتوں کو پکڑ لیتا ہے، پھر ان سے بھی بور ہے۔ پھر ان کے برعکس باتوں کو دوبارہ پکڑ لیتا ہے۔ روزانہ آدمی شدہ-گزشتہ سچائیوں کو پھر سے زندہ کر لیتا ہے، پھر ان سے بھی بور ہے۔اور لطف یہ ہے کہ ہر دور کے ذہین آدمی عام آدمی کی بات کی حمایت کر دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے ذہین رہنے کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ عام آدمی کے سچائیوں کو وہ سچ قبول کریں۔ دنیا میں ایسے بیوقوف لوگ کم ہی ہوتے ہیں جو عام آدمی کے عقائد کو چیلنج دیں۔ اگرچہ ایسے ہی لوگ اس دنیا میں تھوڑے بہت سچ کو تلاش کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن عموما ہم سب منظوری دیتے ہیں جو عام آدمی مانتا ہے۔ عام آدمی کی منظوری دماغ کو سمجھانے کی شناخت ہے۔جب میں یہ کہہ رہا ہوں کہ عورت اور مرد دونوں ہی طاقت کھوتے ہیں تو دو باتیں سمجھ لینی ضروری ہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ ایک تو میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جس طاقت کی میں نے کل بات کی، کام-توانائی کی - مخلوق-توانائی کی نہیں، بايولاجكل نہیں، سکس کی - اس کام-توانائی کو تو دونوں کھوتے ہیں۔ دونوں ہی کھوتے ہیں۔ اسے کچھ سمجھنے میں مشکل نہیں پڑے گی۔ اسے تو ہم میڈكلی بھی جانچ پرکھ کر سکتے ہیں۔کام کے وقت سانس شدید ہو جائے گی۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے آدمی سیڑھیاں پر اضافہ هاپھ رہا ہو۔ بلڈ پریشر بڑھ جائے گا، پسینہ چھوٹ جائے گا، کام کے وقت کے بعد آدمی تھک جائے گا۔ گھنٹے بھر میں واپس اس orgasm کرنے کو کہیں تو پتہ چل جائے گا کہ طاقت ملی کہ پیش آیا. اب اس کو پھر چوبیس گھنٹے، اڑتالیس گھنٹے لگیں گے. ایک آدمی کے بابت کسی نے خبر دی ہے، پتہ نہیں کہاں تک سچ ہے،کبھی ريپ واقعات ہوتے ہیں کہ وہ ایک رات میں بارہ جماع کر سکا. لیکن اس طرح کی کہانیاں اکثر تو علی بابا چالیس چوروں والی کہانیاں ہوتی ہیں. یہ ممکن نہیں ہے.اگر آدمی طاقت جمع کرتا ہے تب تو پہلے orgasm کے بعد دوسرے orgasm میں اس کی طاقت بڑھ جانی چاہئے۔ لیکن پہلے orgasm میں جتنا کم ذرہ (مادہ) وہ چھوڑتا ہے، اگر دو چار گھنٹے کے اندر اندر دوسرا orgasm کرے تو مقدار آدھی ہو جائے گی۔ اور تیسرے orgasm میں مقدار اور گر جائے گا اور چوتھے orgasm میں اور کم ہو جائے گی. چوتھے orgasm میں آدمی پائے گا کہ وہ عمر ہو گیا ہے، اس اب کوئی طاقت نہیں ہے۔عورت کے سلسلے میں تھوڑی غلط فہمی ہوتی ہے، کیونکہ عورت کے پاس پےسو جنسی ہے. طاقت وہ بھی کھوتی ہے، لیکن عورت جارحانہ نہیں ہے۔ عورت قدرتی طور پےسوٹ میں کم طاقت کھوتی ہے۔ حملے میں طاقت زیادہ کھوتی ہے۔ مرد پہل کرتا ہے حملہ کرتا ہے۔ عورت حملہ نہیں کرتی، صرف حملہ جھلتيا ہے۔ کہنا چاہئے صرف ڈیفنس کرتی ہے، صرف حفاظت کرتی ہے۔ عورت کی طاقت مرد سے کم ختم ہوتی ہے۔اس عورت-ویشياء پیدا ہو سکیں. مرد-ویشياء پیدا ہونے میں بہت مشکل ہے۔ ابھی انگلینڈ اور فرانس میں کچھ مرد-ویشياء پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے دام بہت زیادہ ہیں۔ کیونکہ ایک مرد-ویشیاء ایک رات میں ایک ہی بار آپ کو بیچ سکتا ہے۔ ویشیہ نہیں کہہ رہا ہوں، کہیں کوئی ناراض نہ ہو جائے۔ اس لئے مرد-ویشیا کہہ رہا ہوں۔ عورت پےسو ہے، لیکن وہ بھی طاقت کھوتی ہے۔دوسری وجہ، عورت کے بابت اس پتہ نہیں چلتا کہ عورت اکثر orgasm کو دستیاب نہیں ہوتی۔ اصل میں مرد اور عورت کی پيكس مختلف-مختلف ہیں۔ عورت کے پاس جو سکس کا انتظام ہے، وہ بہت سست تیار ہوتی ہے۔ اکثر تو ایسا ہوتا ہے کہ مرد جنس کے وقت سے باہر ہو جاتا ہے اور عورت کسی اونچائی پر پہنچتی نہیں۔ اس میں کچھ لاغر نہیں ہوتا۔ عورت اور مرد کی جو رفتار ہے orgasm کے لمحے میں، وہ برابر نہیں ہے۔تو اکثر عورت کا کچھ بھی لاغر نہیں ہوتا۔ مرد فوری طور پر لاغر ہو کر orgasm کے باہر ہو جاتا ہے۔ اس سے عورت کو الجھن ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر عورت کو بھی orgasm دستیاب ہو تو طاقت کشی ہوگی۔ طاقت کشی ہونی ہی ہے۔ طاقت کشی کرنے میں ہی تو رس آ رہا ہے۔ اس عام طور سے عورت کو orgasm میں اتنا رس نہیں ہوتا ہے جتنا مرد کو ہوتا ہے۔ کیونکہ كنسے نے ابھی تک دس سال کی محنت کے بعد جو رپوٹ دی ہے، وہ یہ کہتی ہے کہ سو میں سے ستر فیصد عورتوں کو orgasm کے سربراہی کی کوئی احساس نہیں ہے۔ بچے پیدا ہو جاتے ہیں، لیکن سکس پاور کا جو انزال کا تجربہ ہے، وہ عورت کو مشکل ہو پاتا ہے۔ اس سے عورتیں بہت جلد ارچ سے بھر جاتی ہیں۔ مرد ارچ سے نہیں برتا۔ روز روز اس کی دلچسپی پھر واپس لوٹ آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ جو میں نے کہا کہ دونوں کی طاقت لاغر (کم) ہوتی ہے۔ طاقت تو لاغر ہوتی ہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ طاقت زبردستی دبانے سے کوئی بڑا طاقتور بن جائے گا۔ اگر زبردستی طاقت دبایا تو دبانے میں بھی طاقت لاغر ہوتی ہے۔ اگر زبردستی دبایا، تو جتنا جھیلنے میں لاغر ہوتی ہے کبھی تو اس سے بھی زیادہ دبانے میں لاغر ہوتی ہے۔ اس کے دو وجوہات ہیں، وہ دبائی ہوئی طاقت آج نہیں، کل نکل جائے گی، متعدد راستے نکلنے کی تلاش لے گی۔ وہ خواب میں بہہ جائے گی۔ اور دبانے میں جو طاقت لگائی تھی، وہ بیکار ہو جائے گی۔-
‫#‏اوشو




Which is the Real Question? -Osho

اصل اور بنیادی سوال کونسا ہے؟
ـ
تمام سائنسی سوالات اصل اور بنیادی ہیں۔ کیونکہ ان کے جوابات میسر ہیں۔ کیونکہ اس میں بحث ''حاضر'' و ''موجود'' پر ہوتی ہے۔ ''غائب'' و ''لاموجود'' پر نہیں۔ اور تمام مزہبی سوالات بنیادی نہیں ہوتے کیونکہ مزہب میں سوال ہوتے ہی نہیں۔ آپ غائب پر کیا سوال کر سکتے ہو۔ جب وہ موجود ہی نہیں، تو اس پر سوال کرنا چہ معنی دارد ۔ مزہب کا دائرہ سوال سے باہر ہے، ''عدم وجود'' پر سوال قائم نہیں ہوتا، مزہبی سوالات اصل نہیں ہوتے۔ اسی لیے اس کے جوابات نہیں ہوتے۔ مزہب کاتعلق جوابات دینے سے نہیں۔
''لاموجود'' پر سوال کرنا۔۔۔
خدا ہے کہ نہیں؟، وحی کیا ہے؟، نزول کیا؟،، جنت کہاں ہے؟، دوزخ کیسی ہے؟
یہ سوالات بنیادی طور پر ہی غلط ہیں۔ یہ اس لیے غلط ہے کہ مزہب سوال کی نہیں بلکہ میسٹری کی تلاش ہے، مزہب سوال کی نہیں، جواب کی تلاش ہے۔۔ مزہب اپنی گہرائی میں میسٹری ہے۔ جہاں ہم کچھ نہیں جانتے بلکہ کچھ جان ہی نہیں سکتے۔ جانکاری ہمارے پاس ماضی کے تجربات اور مشاہدات سے آتی ہے۔ تین لفظ ہماری سمجھ میں آتے۔
ـ
1) جانا گیا،
2) نہ جانا گیا،
3) اور جس کو جانا ہی نہ جا سکتے۔
جانا گیا ہمارے مشاہدات اور تجربات کے ذریعے سے آتا ہے۔ جب ہم فطر کی کھوج کرتے ہیں تو جوابات ہمارے پاس آجاتے ہیں۔ اور تمام سائنس یہی ہے۔ اور جو جوابات ابھی تک تلاش میں ہے، وہ بچی سائنس کہلاتی ہے۔ بنیادی مشاہدہ یہ ہے کہ زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جانا ہے۔
1)جانا گیا۔ (سائنس)
2) اور نہ جانا گیا۔ (مزہب)
جلدی یا بعد میں جاننا پڑھتا جائے گا۔اور پمیشہ بڑھتا ہی جائے گا۔

Mansoor Hallaj -Osho

''منفرد شخصیت امام هلاج منصور''
-
امام هلاج منصور کو قتل کیے جانے سے نو سال قبل ہی جیل میں قیدی بنا کر ڈال دیا گیا تھا. اور وہ انتہائی خوش تھا کیونکہ اس نے نو سال کا استعمال مسلسل توجہ کرنے میں کیا. باہر تو وہاں ہمیشہ شور، رکاوٹ، دوست، شاگرد، سماج، دنیا اور ہزاروں تشویشیں تھی. وہ وہاں بہت خوش تھا. جس دن اسے جیل میں بند کیا گیا، اس نے دل سے اس کے لئے اللہ کا شکر ادا کیا. اس نے کہا تم مجھے اتنی زیادہ محبت کرتے ہو، تبھی تو تم نے دنیا بھر سے مجھے بچانے کے لئے ہی ایسی سیکورٹی دی ہے کہ وہاں اب تیرے اور میرے سوا اور کچھ نہیں بچا. تبھی تو ویسا مجھے گھٹا، تبھی تو اس ملن میں پگھل کر میں مکمل طور پر مٹ گیا. 
وہ نو سال انتہائی تللينتا کے سال تھے. اور ان سالوں کے بعد آخر یہ طے کیا گیا کہ اسے قتل کئے جانا ہے، کیونکہ اس سزا سے وہ ذرا بھی تو نہیں بدلا، بلکہ اس کے برعکس وہ اسی سمت میں مزید آگے بڑھ گیا. اس کے آگے بڑھنے کی سمت تھی کہ اس نے یہ اعلان کرنا شروع کر دیا- 'میں ہی خدا ہوں-انلحق. میں ہی سچ ہوں. میں ہی وجود ہوں. " 
امام جنید نے کئی طرح سے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ -'تو اس طرح کی چیزوں کا اعلان مت کر، اس بات کو اپنے اندر ہی رکھ، کیونکہ لوگ اسے نہیں سمجھیں گے اور تو غیر ضروری طور پر مصیبت میں پڑ جائے گا. 
لیکن یہ منصور کے بس کے باہر کی بات تھی. وہ جب بھی اس مخصوص حالت میں ہوتا تھا، جسے صوفی 'حال' کہہ کر پکارتے ہیں وہ جب بھی اس صورت حال میں ہوتا تھا، وہ ناچنا اور گانا شروع کر دیتا تھا. اور وہ جملہ یا اس کا گانا یا کچھ بھی کہنا، فالتوپن سے چھلكتے ادگار تھے، جن پر کنٹرول کرنے والا کوئی تھا ہی نہیں، سارا کنٹرول جاتا رہا تھا. جنید اس کی حالت کو سمجھتا تھا، لیکن وہ دوسرے لوگوں کی بھی چت حالت کو بھلی مانند جانتا تھا کہ دیر سبیر منصور کو مذہب مخالف سمجھا جائے گا. اس اعلان - '' میں ہی الہی ہوں '' ایک حقیقت تھا، اس کے پیچھے اس کا تجربہ ہی یہ اعلان کر رہا تھا، لیکن لوگ اسے نہیں سمجھ سکے. ان لوگوں نے اسے اس کا اہنکار, (Ego) سمجھا اور نتیجہ پریشانی کھڑی ہو گئی. اور اسے سزا دینے کا لمحہ آ پہنچا. 
نو سال کے بعد ان لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس درمیان یہ شخص ذرا بھی نہیں سدھرا، اور اصل میں گہرy میں اس کا جنون اور زیادہ بڑھ گیا ہے. اب تو وہ مسلسل انلحق' کا اعلان کر رہا تھا. اس لئے آخری طور سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے، اسے موت دی جائے. جب وہ لوگ اسے جیل کی کوٹھری سے باہر نکالنے کے لئے گئے، تو بہت مشکل پیدا ہو گئی کیونکہ وہ 'فنا' کی پراسرار حالت میں ڈوبا ہوا تھا. اب وہ ایک شخص نہیں رہ گیا تھا، وہ صرف خالص توانائی کا کمیت تھا. اس خالص توانائی-کمیت کو باہر گھسیٹ کر کیسے لایا جائے؟ جو لوگ اسے باہر نکالنے گئے تھے وہ انجان اور خاموش رہ گئے. اس اندھیری کوٹھری میں جو کچھ گھٹ رہا تھا، وہ اتنا زیادہ حیرت انگیز تھا، وہ اتنا زیادہ پركاشوان تھا کہ منصور کو چاروں طرف سے اس دنیا کا نہیں، جیسے کوئی الوہی چمک منڈل گھیرے ہوئے تھا. منصور وہاں ایک شخص کی طرح موجود نہیں تھا. 
دو الفاظ- ایک ہے 'بقا' اور دوسرا ہے 'فنا'،. 'بكا' کا مطلب ہوتا ہے کہ تم اپنے ارد گرد تعریف کھڑی کر رہے ہو، تمہارے پاس ایک حد لائن ہے جو اس کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ تم ہو. 
'فنا' کا مطلب ہے کہ تم اب پگھل کرخدا میں گھل گئے اور تمہاری کوئی تعریف، یا حد نہیں رہی. بقا ایک 'برف' کے کیوب کی طرح ہے، اور فنا کی حالت ہے پگھلے ہوئے برف کیوب کی، جو دریا میں گھل کر اس کے ساتھ ایک ہو گیا.
عام دنیا میں تم ایسے مخصوص افراد کو نہ تلاش سکو گے. اس مقام پر لوگ تو بہت ہیں لیکن ایسے مخصوص شخصیت نہیں ہیں. لوگ تو بہت ہیں لیکن ایسی وےيكتكتا والے شخص نہیں ہے.
پہلے تمہیں خود میں ہونا ہو گا، صرف تبھی تم ختم ہو سکتے ہو. اگر تم ہو ہی نہیں، تب کون جا رہا ہے ختم ہونے؟ پہلے تمہیں خود کو بھیڑ سے آزاد کرنا ہو گا، صرف تبھی تم چھلانگ لگا سکتے ہو. اس لئے تضاد یہی ہے، کہ جو شخص بقا کی حالت میں ہو، صر وہی فنا کی حالت میں جا سکتا ہے.
بھیڑ میں رہنے والا عام انسان فنا کی حالت میں نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ یہ جانتا ہی نہیں کہ وہ کون ہے، اس کے پاس ابھی تک نہ تو کوئی پتہ ہے، اور نہ اس کے پاس ابھی تک کوئی نام ہے اور نہ کوئی پہچان ہے. وہ بھیڑ میں صرف ایک نمبر کی طرح ہے. اس کی آسانی سے ہٹاکر اس کی جگہ دوسرے شخص کو رکھا جا سکتا ہے، اور اس تبدیل کیا جا سکتا ہے. وہ ایک مخصوص طرح کے کام کرنے والا ایک حصہ ہے. وہ ایک ملازم ہے. مثال کے طور وہ ایک انجنیئر ہو سکتا ہے. اگر اس کی موت ہو جاتی ہے، آپ اس کی جگہ وہاں دوسرے انجینئر رکھ سکتے ہو اور کوئی بھی اس کے فقدان کا تجربہ نہیں کرے گا. یا وہ ڈاکٹر ہو سکتا ہے. اگر وہ مر جاتا ہے تم اس کی جگہ وہاں دوسرے ڈاکٹر کو بیٹھا دیتے ہو، اور کوئی بھی شخص اس کے فقدان کا تجربہ نہیں کرے گا. وہ بدلے جانے حصہ یا پرزے کی طرح ہے، وہ ایک ڈیوٹی نبھانے والا ملازم ہے.
لیکن وہ شخص جو بقا کی حالت میں ہوتا ہے، وہ ایک ملازم کی طرح نہیں ہوتا، اس کے پاس، اس کے وجود میں ایک مکمل طور پر مختلف گاتمكتا ہوتی ہے. اس کے فقدان کو ہمیشہ کے لئے محسوس کیا جاتا رہے گا. ایک بار اگر وہ چلا گیا، تو تم اس کے مقام پر دوسرے شخص نہ پا سکو گے. تم حضرت عیٰسی کے مقام پر دوسرا حضرت عیٰسی نہیں پا سکتے. تم پوپ کے مقام پر تبدیل کر کے دوسرا پوپ رکھ سکتے ہو اور جسے تم نے کئی بار بدلا بھی ہے. ہر بار جب ایک پوپ مر جاتا ہے، اس کی جگہ دوسرا آ جاتا ہے.تم بہت آسانی سے پوری کے شنکراچاری کو تبدیل کر سکتے ہو، اس بارے میں کہیں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے. ایک شنکراچاری کے مقام پر دوسرے نہیں بدل سکتے. تم حضرت عیٰسی کو بدل کر دوسرا حضرت عیٰسی نہیں لا سکتے، آپ دوسرا محمد بدل کر نہیں لا سکتے.ایک بار وہ چلے گئے، تو وہ ہمیشہ کے لئے چلے گئے. وہ ایک منفرد پرائیویسی کو لے کر وجود میں رہے-اور یہی صورتحال ہوتی ہے بقا کی. اور صرف ایسے ہی لوگ فنا کی حالت میں جانے کے قابل ہیں. یہ متضاد دکھائی دیتا ہے، کیونکہ فنا کا مطلب ہے تم اپنی پوری تصویر اور اپنا پورا وجود کھو رہے ہو.
لیکن پہلے تمہارے پاس کھونے کے لئے وہ وجود تو ہونا چاہئے. اگر وہ تمہارے پاس ہے ہی نہیں، تو تم اسے کس طرح کھو سکتے ہو؟ تم اس کی قربانی کس طرح کر سکتے ہو، اگر وہ تمہارے پاس ہے ہی نہیں. اس لئے تضاد، براہ راست طور پر ایسا احساس ہوتا ہے. اس کے پیچھے ایک بہت بڑا عالم گیر اصول کام کر رہا ہے. پہلے تمہارے پاس گرانے یا چھوڑنے کے لئے کچھ سرمایہ اپنے پاس ہونی چاہیے. پہلے اسے ایک ساتھ جمع کرو. اسے ایک ساتھ جمع کرنا ہوتا ہے، تبھی آتا ہے خاموشی. پہلے اسے ایک ساتھ ایک جگہ پر جمع کرو، اس کا انتضام کرو، بكا بنو، اور تبھی تم فنا میں جا سکتے ہو.
منصور، ایک منفرد وےيكتكتا کا مالک بنا. وہا جہاں کہیں بھی گیا، فورا اسے پہچان لیا گیا. اس کی طرف نظر نہ جانا، اس سے ترک ناممکن تھا. وہ بھارت بھی آیا واقعی اس سدگر امام جنید نے اس سے کہا: تمہارے لئے اچھا یہی ہے کہ تم دوسرے ممالک میں جا کر رہو، ورنہ یہاں تم پکڑ لیے جاؤ گے. اس لئے دور دور ممالک تک اس نے دوروں کی. ہر جگہ وہ فورا پہچان لیا گیا. وہ شہنشاہوں کا شہنشاہ تھا. تم اس کی طرف دیکھے بغیر رہ ہی نہیں سکتے تھے. اگر وہ دس ہزار لوگوں کی بھیڑ میں بھی کھڑا ہوا تھا، تب بھی تم اسے دیکھ اور شناخت سکتے تھے. وہ بقا کی حالت میں تھا، وہ کرسٹل طرح واضح تھا. اس کی موجودگی انتہائی، گھنی، تھی. ایک بار تم نے اس کی طرف دیکھ لیا، تو دوسرے تمام افراد کے چہرے پیلے، پھیکے اور سپاٹ دکھائی دینے لگتے تھے. اس لئے دیرسبیر وہ ہر جگہ پہچان لیا گیا اور اسے اس ملک کو چھوڑ کر جانا پڑا، کیونکہ مسائل کھڑی ہونے لگے.
وہ مشرق وسطی کے کئی ممالک میں گیا، لیکن وہ جہاں کہیں بھی گیا، کچھ دنوں تک تو سبھی کچھ ٹھیک ٹھاک رہا وہ وہاں بغیر پہچانے رہتا رہا لیكن زیادہ وقت تک نہیں. اس لئے آخر میں واپس آکر اس نے سدگر جنید سے کہا - '' یہ اب بے معنی ہو گیا ہے. میں ہر جگہ پکڑا جا سکتا ہوں، اس لئے یہیں کیوں نہیں؟ ''
جب اس شخص کو قید خانے کی الماری سے باہر لانے کی کوشش کی گئی، تو جو افسر اسے باہر لے جانے کے لئے آئے تھے، وہ اسے الماری میں تلاش ہی نہیں سکے، کہ وہ وہاں ہے کہاں؟ وہ وہیں تھا. مکمل طور پر وہیں تھا، کیونکہ پوری الماری اس کی اس کی موجودگی سے روشن ہوئے تھی. وہ موجودگی بہت گھنی تھی، پر پھر بھی وہ لوگ کوٹھری میں داخل ہی نہیں کر سکے. وہ لوگ خوف سے ساکت، حیرت حیران ہو کر کھڑے سوچتے رہے، آخر کیا کرنا چاہئے؟ آخر میں ہمت جٹاكر انہوں نے اسے کھینچ کر باہر لانے کی کوشش کی، لیکن ایسا کرنے میں وہ کامیاب نہ ہو سکے. تب اس بارے میں صرف ایک ہی راستہ تھا: اس کے سدگرجنید سے کہا گیا کہ وہ آکر ان کی مدد کرے، کیونکہ وقت گزرا جا رہا تھا اور انہیں منصور کو پھانسی پر چڑھانا تھا اور وہ اس سے باہر بھی نہیں نکال پا رہے تھے. 
امام جنید آیا اور اس نے کہا: '' منصور اب میری بات سنو. میں نے کئی بار تم سے کہا کہ اب تم اپنے کو اللہ کے سپرد کر دو. اگر وہ چاہتا ہے کہ تم سولی پر چڑھو تو عام ہو کر سولی پر چڑھ جاؤ. اسے اپنا کام مکمل کرنے دو. اب بہت ہوا، یہ کریم ہے. '' اور جب امام جنید نے چللا کر کہا تو منصور 'فنا' کی صورت میں واپس لوٹا. اب پھر سے وہاں ایک حد لائن دکھائی دی، اب وہ ایک توانائی کا بادل نہ رہا، وہ ٹھوس اور گھنے بن گیا. اس کے جسم کی حدود ظاہر ہوئی. اس کا سدگر آ پہنچا تھا اور اسے اپنے سدگر کی بات سننی ہی تھی.
تب اسے قتل گاه تک لے جایا گیا. لیکن اسے مارنا بہت مشکل تھا اس کے جسم پر تلوار کے پرهارو سے ایک ہزار زخم ہو گئےلیکن وہ پھر بھی زندہ تھا. تب انہوں نے اس کے ایک ایک انگ کو کاٹنا شروع کیا، لیکن وہ پھر بھی زندہ تھا کیونکہ قتل گاه پر وہ پھر بقا کی حالت سے فنا کی حالت میں چلا گیا. وہ پھر سے توانائی میں لين ہو گیا.
''منصور جیسی حیثیت کے شخص کے لئے اللہ ایک توانائی ہے. بدھ کی حالت والے شخص کے لئے اللہ، اللہ ہے
چیتن ہے. حضرت عیسی کے لئے اللہ، محبت ہے''۔
-
اوشو


Omar Khayyam -Osho

عمر خیام ایک اہم صوفی فقیر، اپنی رباعیات میں لکھتا ہے:---''میں پینے جارہا ہوں، میں رقص کرنے جارہا ہوں، میں محبت کرنے جارہا ہوں۔ میں ہر قسم کا گناہ کرنے جارہا ہوں، کیونکہ مجھے بھروسہ ہے کہ خدا رحم والا ہے، وہ معاف کرنے والا ہے، میرے گناہ تو بہت چھوٹے محدود ہیں ، اسکی معافی لامحدود ہے''-جب مولویوں کو اس کی کتاب کے حوالے سے پتہ چلا۔ ُاس وقت کے لحاظ سے کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھی چھپائی کا کوئی آلہ نہیں تھا، جب مولویوں کو پتہ چلا کہ وہ اس طرح کی گستاخانہ چیزیں لکھ رہا تھا،کہ عمرخیام کہ رہا تھا:
-
''پریشان مت ہونا، جو تم کرنا چاہتے ہو اسے کرو، خدا کچھ بھی نہیں ایک پاک محبت کے، تم سترسال میں کتے گناہ کرپاؤگے؟ اسکی معافی کے سامنے ستر سال کچھ بھی نہیں۔۔''
-
وہ اپنے وطن میں ایک مشہور ریاضی دان بھی تھا ۔ عالمدین نے اس تک رسائی حاصل کی اور کہا:
یہ تم کیسی چیزیں لکھ رہے ہو؟ تم تو لوگوں کی خدا پرستی کو برباد کرہے ہو، لوگوں میں خوف - ڈر پیدا کرو، لوگوں کو بتاؤ کہ اگر تم گناہ کرنے میں لگے رہوگے، تو تمہیں سزا ملے گی، گناہ گاروں کے لئے کوئی رحم نہیں ہے۔
-
عمر خیام کی کتاب جلا دی گئی تھی اس کے دن پر کیونکہ یہ شخص لوگوں کو خطرناک آئڈیل سکھا رہا تھا اگر یہ آئڈیل لوگوں کے درمیان پھلتا تو ہر کوئی اپنی زندگی میں جشن ۔ خوشیاں مناتا۔
پھر ان مولویوں کا کیا ہوتا؟ ان پنڈوں کا کیا ہوتا؟ ان مزہبی رہمناؤ کا کیا ہوتا ؟ پھر انکے دیوتاؤں کے قصوں کا کیا ہوتا؟ ۔ ایک ہوا کے جہونکے کے ساتھ سب کچھ غائب ہوجاتا۔ کم از کم میں بھی۔۔
عمر خیام ایک منور صوفی تھے اور جو کچھ اس نے کہا اس میں لامحدود سچائی ہے۔۔۔
اس کے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ تم گناہ کرنے میں لگ جاؤ، اس کے کہنے کا سادہ سہ مطلب یہ تھا کہ خود کو(guilty) مجرم مت (feel) تصور کرو۔ جو کچھ بھی تم کرو، اگر یہ صحیح نہیں تو دوبارہ مت کرو، مگر خود کو مجرم ، گناہ گار محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خود کو اذیت اور توبہ کفارہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔-''پریشان مت ہونا، جو تم کرنا چاہتے ہو اسے کرو، خدا کچھ بھی نہیں ایک پاک محبت کے، تم سترسال میں کتے گناہ کرپاؤگے؟ اسکی معافی کے سامنے ستر سال کچھ بھی نہیں۔۔''-وہ اپنے وطن میں ایک مشہور ریاضی دان بھی تھا ۔ عالمدین نے اس تک رسائی حاصل کی اور کہا:یہ تم کیسی چیزیں لکھ رہے ہو؟ تم تو لوگوں کی خدا پرستی کو برباد کرہے ہو، لوگوں میں خوف - ڈر پیدا کرو، لوگوں کو بتاؤ کہ اگر تم گناہ کرنے میں لگے رہوگے، تو تمہیں سزا ملے گی، گناہ گاروں کے لئے کوئی رحم نہیں ہے۔ -عمر خیام کی کتاب جلا دی گئی تھی اس کے دن پر کیونکہ یہ شخص لوگوں کو خطرناک آئڈیل سکھا رہا تھا اگر یہ آئڈیل لوگوں کے درمیان پھلتا تو ہر کوئی اپنی زندگی میں جشن ۔ خوشیاں مناتا۔ پھر ان مولویوں کا کیا ہوتا؟ ان پنڈوں کا کیا ہوتا؟ ان مزہبی رہمناؤ کا کیا ہوتا ؟ پھر انکے دیوتاؤں کے قصوں کا کیا ہوتا؟ ۔ ایک ہوا کے جہونکے کے ساتھ سب کچھ غائب ہوجاتا۔ کم از کم میں بھی۔۔عمر خیام ایک منور صوفی تھے اور جو کچھ اس نے کہا اس میں لامحدود سچائی ہے۔۔۔اس کے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ تم گناہ کرنے میں لگ جاؤ، اس کے کہنے کا سادہ سہ مطلب یہ تھا کہ خود کو(guilty) مجرم مت (feel) تصور کرو۔ جو کچھ بھی تم کرو، اگر یہ صحیح نہیں تو دوبارہ مت کرو، مگر خود کو مجرم ، گناہ گار محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خود کو اذیت اور توبہ کفارہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔
اوشو



George Bernard Shaw -Osho

جارج برناڈ شا نے کہا ہے:

''دنیا میں دو ہی دکھ ہیں- ایک تم جو چاہو وہ نہ ملے اور دوسرا تم جو چاہو وہ مل جائے''دوسرا دکھ میں کہتا ہوں کہ پہلے سے بڑا ہے. کیونکہ مجنو کو لیلی نہ ملے تو بھی خیال میں تو سوچتا ہی رہتا ہے کہ کاش، مل جاتی! کاش مل جاتی، تو کیسا سکھ ہوتا!تو طیارہ آسمان میں کرتاسواری بادلوں کی،چاند تاروں سے باتیں،کھلتا کمل کے پھول کی مانند.نہیں مل پایا اس لئے دکھی هوں، مجنو کو میں کہوں گا، ذرا ان سے پوچھو جن کو لیلی مل گئی ہے. وہ چھاتی پیٹ رہے ہیں. وہ سوچ رہے ہیں کہ مجنو خوش قسمت تھا، بڑا خوش قسمت تھا. کم سے کم بے چارہ فریب میں شامل تھا مگر ہمارا تو بھرم بھی ٹوٹ گیا. جن کے محبت کامیاب ہو گئے ہیں، ان کے محبت بھی ناکام ہو جاتے ہیں. اس دنیا میں کوئی بھی چیز کامیاب ہو ہی نہیں سکتی. باہر کی تمام دوڑ ناکام ہونے کی تیاری میں ہے.کیونکہ جس کو تم تلاش کر رہے ہو باہر نہیں ، وہ اندر موجود ہے. اس لئے باہر تمہیں دکھائی پڑتا ہے اور جب آپ اس کے پاس پہنچتے ہو، وہ کھو جاتا ہے. دور سے دکھائی پڑتا ہے. ریگستان میں پیاسا آدمی دیکھ لیتا ہے کہ وہ رہا پانی کا آبشار. پھر دوڑتا ہے، دوڑتا ہے اور پہنچتا ہے، مل جاتا ہے آبشار نہیں ہے، صرف دھوکہ ہو گیا تھا. پیاس نے ساتھ دیا فریب میں. خوب گہری پیاس تھی اس لئے فریب ہو گئی. پیاس نے ہی خواب پیدا کر لیا. پیاس اتنی گھنی تھی کہ پیاس نے ایک برم پیدا کر ليا، باہر جسے ہم تلاش کرنے چلتے ہیں وہ اندر اندر ہے. اور جب تک ہم باہر سے بالکل نہ ہار جائیں. مکمل طور پر تب تک ہم اندر واپس آ بھی نہیں سکتے.۔‫#‏اوشو
www.facebook.com/OshoInUrdu