اصل اور بنیادی سوال کونسا ہے؟
ـ
تمام سائنسی سوالات اصل اور بنیادی ہیں۔ کیونکہ ان کے جوابات میسر ہیں۔ کیونکہ اس میں بحث ''حاضر'' و ''موجود'' پر ہوتی ہے۔ ''غائب'' و ''لاموجود'' پر نہیں۔ اور تمام مزہبی سوالات بنیادی نہیں ہوتے کیونکہ مزہب میں سوال ہوتے ہی نہیں۔ آپ غائب پر کیا سوال کر سکتے ہو۔ جب وہ موجود ہی نہیں، تو اس پر سوال کرنا چہ معنی دارد ۔ مزہب کا دائرہ سوال سے باہر ہے، ''عدم وجود'' پر سوال قائم نہیں ہوتا، مزہبی سوالات اصل نہیں ہوتے۔ اسی لیے اس کے جوابات نہیں ہوتے۔ مزہب کاتعلق جوابات دینے سے نہیں۔
''لاموجود'' پر سوال کرنا۔۔۔
خدا ہے کہ نہیں؟، وحی کیا ہے؟، نزول کیا؟،، جنت کہاں ہے؟، دوزخ کیسی ہے؟
یہ سوالات بنیادی طور پر ہی غلط ہیں۔ یہ اس لیے غلط ہے کہ مزہب سوال کی نہیں بلکہ میسٹری کی تلاش ہے، مزہب سوال کی نہیں، جواب کی تلاش ہے۔۔ مزہب اپنی گہرائی میں میسٹری ہے۔ جہاں ہم کچھ نہیں جانتے بلکہ کچھ جان ہی نہیں سکتے۔ جانکاری ہمارے پاس ماضی کے تجربات اور مشاہدات سے آتی ہے۔ تین لفظ ہماری سمجھ میں آتے۔
ـ
1) جانا گیا،
2) نہ جانا گیا،
3) اور جس کو جانا ہی نہ جا سکتے۔
جانا گیا ہمارے مشاہدات اور تجربات کے ذریعے سے آتا ہے۔ جب ہم فطر کی کھوج کرتے ہیں تو جوابات ہمارے پاس آجاتے ہیں۔ اور تمام سائنس یہی ہے۔ اور جو جوابات ابھی تک تلاش میں ہے، وہ بچی سائنس کہلاتی ہے۔ بنیادی مشاہدہ یہ ہے کہ زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جانا ہے۔
1)جانا گیا۔ (سائنس)
2) اور نہ جانا گیا۔ (مزہب)
جلدی یا بعد میں جاننا پڑھتا جائے گا۔اور پمیشہ بڑھتا ہی جائے گا۔
ـ
تمام سائنسی سوالات اصل اور بنیادی ہیں۔ کیونکہ ان کے جوابات میسر ہیں۔ کیونکہ اس میں بحث ''حاضر'' و ''موجود'' پر ہوتی ہے۔ ''غائب'' و ''لاموجود'' پر نہیں۔ اور تمام مزہبی سوالات بنیادی نہیں ہوتے کیونکہ مزہب میں سوال ہوتے ہی نہیں۔ آپ غائب پر کیا سوال کر سکتے ہو۔ جب وہ موجود ہی نہیں، تو اس پر سوال کرنا چہ معنی دارد ۔ مزہب کا دائرہ سوال سے باہر ہے، ''عدم وجود'' پر سوال قائم نہیں ہوتا، مزہبی سوالات اصل نہیں ہوتے۔ اسی لیے اس کے جوابات نہیں ہوتے۔ مزہب کاتعلق جوابات دینے سے نہیں۔
''لاموجود'' پر سوال کرنا۔۔۔
خدا ہے کہ نہیں؟، وحی کیا ہے؟، نزول کیا؟،، جنت کہاں ہے؟، دوزخ کیسی ہے؟
یہ سوالات بنیادی طور پر ہی غلط ہیں۔ یہ اس لیے غلط ہے کہ مزہب سوال کی نہیں بلکہ میسٹری کی تلاش ہے، مزہب سوال کی نہیں، جواب کی تلاش ہے۔۔ مزہب اپنی گہرائی میں میسٹری ہے۔ جہاں ہم کچھ نہیں جانتے بلکہ کچھ جان ہی نہیں سکتے۔ جانکاری ہمارے پاس ماضی کے تجربات اور مشاہدات سے آتی ہے۔ تین لفظ ہماری سمجھ میں آتے۔
ـ
1) جانا گیا،
2) نہ جانا گیا،
3) اور جس کو جانا ہی نہ جا سکتے۔
جانا گیا ہمارے مشاہدات اور تجربات کے ذریعے سے آتا ہے۔ جب ہم فطر کی کھوج کرتے ہیں تو جوابات ہمارے پاس آجاتے ہیں۔ اور تمام سائنس یہی ہے۔ اور جو جوابات ابھی تک تلاش میں ہے، وہ بچی سائنس کہلاتی ہے۔ بنیادی مشاہدہ یہ ہے کہ زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جانا ہے۔
1)جانا گیا۔ (سائنس)
2) اور نہ جانا گیا۔ (مزہب)
جلدی یا بعد میں جاننا پڑھتا جائے گا۔اور پمیشہ بڑھتا ہی جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں