23 نومبر، 2015

محبت، دوستی اور آگہی


٭ ایک عظیم ترین سائنس دان، ایک سرجن سے، جس کو نوبل انعام سے نوازا گیا تھا، پوچھا گیا ''جب آپ کو نوبل انعام سے سے نوازا جا رہا تھا تو آپ مسرور دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ کیا وجہ تھی''۔؟
٭ اس نے جواب دیا ''میں ہمیشہ خواہش کرتا تھا کہ ایک ''رقاص'' بنوں۔
٭ میری کبھی یہ خواہش نہیں تھی کہ میں سرجن بنوں اور اب نہ صرف میں ایک سرجن بن چکا ہوں بلکہ میں ایک بے حد کامیاب سرجن ہوں اور اب نہ صرف میں ایک سرجن بن چکا ہوں بلکہ میں ایک بے حد کامیاب سرجن ہوں اور یہ ایک بوجھ ہے۔
٭ میں تو صرف ایک رقاص بننے کا خواہش مند تھا اور میں ایک رقاص ہی رہا ہوں۔ یہ ہے میری بے چینی۔
٭ جب کبھی میں کسی کو رقص کرتے ہوئے پاتا ہوں، تو میں بے چارگی محسوس کرتا ہوں۔ یوں لگتا ہے ''جہنم میں گر گیا ہوں۔
٭ یہ نوبل انعام بھلا میرے کس کام آئے گا؟ یہ میرے لیے رقص میں تو نہیں ڈھل سکتا، یہ مجھے رقص کی تحریک تو نہیں دے سکتا۔
٭ یاد رکھو اپنے اندر کی آواز پر کان دھرو، یہ تمھیں خطرات کی طرف لے جائے، تو پھر خطرے میں کود پڑو، لیکن اپنے اندر کی آواز کے ساتھ سچے رہو۔
٭ اس صورت میں امکان ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا تم اندرونی طمانیت اور آسودگی کے احساس کے ساتھ پوری کائنات کے ساتھ رقص کرنے لگو۔
٭ ہمیشہ یاد رکھو، پہلی چیز تمہاری اپنی ذات ہے۔ دوسروں کو اجازت مت دو کہ وہ تمھارے ساتھ ساز باز کریں اور تمہیں وہ بنائے جو تم نہیں ہو۔
٭ اول تو کسی کی باتوں پر کان مت دھرو، چاہے وہ تم سے کچھ بھی بننے کا کہیں۔
٭ ہمیشہ اپنے اندر کی آواز کو سنو، تم کو وہی بننا ہے جو کچھ کہ بننا پسند کرتے ہو، بصورت دیگر تمھاری زندگی اکارت چلی جائے گی۔
'اوشو'