2 ستمبر، 2015

Orgasm -Osho

سوال:- آپ نے ابھی ابھی کہا ہے کہ orgasm میں عورت اور مرد دونوں کی توانائی لاغر ہوتی ہے، لیکن عام تسلیم ہے کہ جماع منی عورت کو تصدیق ملتی ہے. براہ مہربانی واضح کریں۔-جواب: عام تسلیم ایسی ہی ہوتی ہیں۔ جیسے عام تسلیم ہے کہ سورج طلوع، زمین چپٹی ہے۔ عام تسلیم اکثر ہی غلط ہوتی ہیں۔ کیونکہ عام کا مطلب ہے اوپر سے دیکھی گئی، جسے گہرائی نہیں دیا گیا۔ سورج طلوع دکھائی دیتا ہے۔ اب ہم بخوبی جانتے ہیں کہ سورج نہ نکلتا ہے نہ ڈوبتا۔ لیکن طلوع آفتاب اور غروب آفتاب الفاظ سے انسان کا چھٹکارا کبھی بھی نہیں ہو سکتا ہے. یہ الفاظ جاری رہیں گے. زمین چپٹی دکھائی پڑتی ہے، کہیں بھی گول دکھائی نہیں پڑتی۔ ہزاروں لاکھوں سال تک آدمی مانتا چلا آیا کہ چپٹی ہے۔ آج گول خیال پڑتا ہے تو مشکل ہے، عام دماغ کو بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ گول کس طرح مانیں، جب شائع چپٹی پڑتی ہے۔عام تسلیم اکثر غلط ہوتی ہیں، کیونکہ عام تسلیم دو چیزوں پر مبنی ہوتی ہیں. ایک، جیسا کہ اوپر سے دکھائی دیتا ہے. اور دوسرا، جیسا ہم خیال چاہتے ہیں ویسا ہم مان لیتے ہیں۔ ہم عام سچ کو نہیں ماننا چاہتے۔ ہم جو خیال چاہتے ہیں، اسے حقیقت بنا لیتے ہیں۔ آدمی ریشنل مخلوق کم، ریشنلاجگ مخلوق زیادہ ہے. ایسا نہیں کہ وہ بہت عقل سے غور کرتا ہے، بلکہ ایسا کہ وہ جو بھی غور کرتا ہے، اس کو wits کی شكل دے دیتا ہے. یہ زیادہ آسان پڑتا ہے۔اگر قرون وسطی کے یورپ کی کتابیں ملاحظہ کریں اور ڈاکٹروں کی بھی، تو انہوں نے جو باتیں کہی ہیں وہ آج کا ڈاکٹر بالکل نہیں کہہ رہا ہے۔ قرون وسطی کے ڈاكٹرس کہہ رہے ہیں، بڑا خطرناک ہے کام، کیونکہ قرون وسطی کے آدمی کام مخالف رخ اختیار کئے ہوئے تھا. آج کا ڈاکٹر کہہ رہا ہے کہ بالکل خطرناک نہیں ہے، ایک دم ٹھیک ہے، کیونکہ آج کا آدمی شبھ خیال چاہ رہا ہے. کوئی تعجب نہیں کہ حالات کل پھر بدل جائے. فیشن خیال میں بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اس زمین پر آدمی نے ہزار بار انہی باتوں کو واپس لیا ہے، جن چیزوں کو اس نے چھوڑا ہے یا جن بور کیا گیا ہے. پھر ان کے برعکس باتوں کو پکڑ لیتا ہے، پھر ان سے بھی بور ہے۔ پھر ان کے برعکس باتوں کو دوبارہ پکڑ لیتا ہے۔ روزانہ آدمی شدہ-گزشتہ سچائیوں کو پھر سے زندہ کر لیتا ہے، پھر ان سے بھی بور ہے۔اور لطف یہ ہے کہ ہر دور کے ذہین آدمی عام آدمی کی بات کی حمایت کر دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے ذہین رہنے کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ عام آدمی کے سچائیوں کو وہ سچ قبول کریں۔ دنیا میں ایسے بیوقوف لوگ کم ہی ہوتے ہیں جو عام آدمی کے عقائد کو چیلنج دیں۔ اگرچہ ایسے ہی لوگ اس دنیا میں تھوڑے بہت سچ کو تلاش کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن عموما ہم سب منظوری دیتے ہیں جو عام آدمی مانتا ہے۔ عام آدمی کی منظوری دماغ کو سمجھانے کی شناخت ہے۔جب میں یہ کہہ رہا ہوں کہ عورت اور مرد دونوں ہی طاقت کھوتے ہیں تو دو باتیں سمجھ لینی ضروری ہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ ایک تو میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جس طاقت کی میں نے کل بات کی، کام-توانائی کی - مخلوق-توانائی کی نہیں، بايولاجكل نہیں، سکس کی - اس کام-توانائی کو تو دونوں کھوتے ہیں۔ دونوں ہی کھوتے ہیں۔ اسے کچھ سمجھنے میں مشکل نہیں پڑے گی۔ اسے تو ہم میڈكلی بھی جانچ پرکھ کر سکتے ہیں۔کام کے وقت سانس شدید ہو جائے گی۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے آدمی سیڑھیاں پر اضافہ هاپھ رہا ہو۔ بلڈ پریشر بڑھ جائے گا، پسینہ چھوٹ جائے گا، کام کے وقت کے بعد آدمی تھک جائے گا۔ گھنٹے بھر میں واپس اس orgasm کرنے کو کہیں تو پتہ چل جائے گا کہ طاقت ملی کہ پیش آیا. اب اس کو پھر چوبیس گھنٹے، اڑتالیس گھنٹے لگیں گے. ایک آدمی کے بابت کسی نے خبر دی ہے، پتہ نہیں کہاں تک سچ ہے،کبھی ريپ واقعات ہوتے ہیں کہ وہ ایک رات میں بارہ جماع کر سکا. لیکن اس طرح کی کہانیاں اکثر تو علی بابا چالیس چوروں والی کہانیاں ہوتی ہیں. یہ ممکن نہیں ہے.اگر آدمی طاقت جمع کرتا ہے تب تو پہلے orgasm کے بعد دوسرے orgasm میں اس کی طاقت بڑھ جانی چاہئے۔ لیکن پہلے orgasm میں جتنا کم ذرہ (مادہ) وہ چھوڑتا ہے، اگر دو چار گھنٹے کے اندر اندر دوسرا orgasm کرے تو مقدار آدھی ہو جائے گی۔ اور تیسرے orgasm میں مقدار اور گر جائے گا اور چوتھے orgasm میں اور کم ہو جائے گی. چوتھے orgasm میں آدمی پائے گا کہ وہ عمر ہو گیا ہے، اس اب کوئی طاقت نہیں ہے۔عورت کے سلسلے میں تھوڑی غلط فہمی ہوتی ہے، کیونکہ عورت کے پاس پےسو جنسی ہے. طاقت وہ بھی کھوتی ہے، لیکن عورت جارحانہ نہیں ہے۔ عورت قدرتی طور پےسوٹ میں کم طاقت کھوتی ہے۔ حملے میں طاقت زیادہ کھوتی ہے۔ مرد پہل کرتا ہے حملہ کرتا ہے۔ عورت حملہ نہیں کرتی، صرف حملہ جھلتيا ہے۔ کہنا چاہئے صرف ڈیفنس کرتی ہے، صرف حفاظت کرتی ہے۔ عورت کی طاقت مرد سے کم ختم ہوتی ہے۔اس عورت-ویشياء پیدا ہو سکیں. مرد-ویشياء پیدا ہونے میں بہت مشکل ہے۔ ابھی انگلینڈ اور فرانس میں کچھ مرد-ویشياء پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے دام بہت زیادہ ہیں۔ کیونکہ ایک مرد-ویشیاء ایک رات میں ایک ہی بار آپ کو بیچ سکتا ہے۔ ویشیہ نہیں کہہ رہا ہوں، کہیں کوئی ناراض نہ ہو جائے۔ اس لئے مرد-ویشیا کہہ رہا ہوں۔ عورت پےسو ہے، لیکن وہ بھی طاقت کھوتی ہے۔دوسری وجہ، عورت کے بابت اس پتہ نہیں چلتا کہ عورت اکثر orgasm کو دستیاب نہیں ہوتی۔ اصل میں مرد اور عورت کی پيكس مختلف-مختلف ہیں۔ عورت کے پاس جو سکس کا انتظام ہے، وہ بہت سست تیار ہوتی ہے۔ اکثر تو ایسا ہوتا ہے کہ مرد جنس کے وقت سے باہر ہو جاتا ہے اور عورت کسی اونچائی پر پہنچتی نہیں۔ اس میں کچھ لاغر نہیں ہوتا۔ عورت اور مرد کی جو رفتار ہے orgasm کے لمحے میں، وہ برابر نہیں ہے۔تو اکثر عورت کا کچھ بھی لاغر نہیں ہوتا۔ مرد فوری طور پر لاغر ہو کر orgasm کے باہر ہو جاتا ہے۔ اس سے عورت کو الجھن ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر عورت کو بھی orgasm دستیاب ہو تو طاقت کشی ہوگی۔ طاقت کشی ہونی ہی ہے۔ طاقت کشی کرنے میں ہی تو رس آ رہا ہے۔ اس عام طور سے عورت کو orgasm میں اتنا رس نہیں ہوتا ہے جتنا مرد کو ہوتا ہے۔ کیونکہ كنسے نے ابھی تک دس سال کی محنت کے بعد جو رپوٹ دی ہے، وہ یہ کہتی ہے کہ سو میں سے ستر فیصد عورتوں کو orgasm کے سربراہی کی کوئی احساس نہیں ہے۔ بچے پیدا ہو جاتے ہیں، لیکن سکس پاور کا جو انزال کا تجربہ ہے، وہ عورت کو مشکل ہو پاتا ہے۔ اس سے عورتیں بہت جلد ارچ سے بھر جاتی ہیں۔ مرد ارچ سے نہیں برتا۔ روز روز اس کی دلچسپی پھر واپس لوٹ آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ جو میں نے کہا کہ دونوں کی طاقت لاغر (کم) ہوتی ہے۔ طاقت تو لاغر ہوتی ہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ طاقت زبردستی دبانے سے کوئی بڑا طاقتور بن جائے گا۔ اگر زبردستی طاقت دبایا تو دبانے میں بھی طاقت لاغر ہوتی ہے۔ اگر زبردستی دبایا، تو جتنا جھیلنے میں لاغر ہوتی ہے کبھی تو اس سے بھی زیادہ دبانے میں لاغر ہوتی ہے۔ اس کے دو وجوہات ہیں، وہ دبائی ہوئی طاقت آج نہیں، کل نکل جائے گی، متعدد راستے نکلنے کی تلاش لے گی۔ وہ خواب میں بہہ جائے گی۔ اور دبانے میں جو طاقت لگائی تھی، وہ بیکار ہو جائے گی۔-
‫#‏اوشو




کوئی تبصرے نہیں: