19 ستمبر، 2015

Religion - مزہب

ایک ولی آتا ہے. اندر غار میں جا کر مذہب کے عنصر روحانیت کو جانتا ہے. پھر وہ چلا جاتا ہے. پھر مت بچا رہتا ہے. اس کی بنیاد پر ایک ثقافت تیار ہوتی ہے. ثقافت کے پھول کھلتے ہیں. دور ترتیب میں ثقافت اہم ہو جاتی ہے. روحانیت آلات ہو جاتا ہے. اور پھر ایک ولی کو، ایک زندہ سنت، (ولی) کو اس زمین پر آنا پڑتا ہے. پھر انگارے جلانے ہوتے ہیں. پھر گہری جلانا ہوتا ہے.
جو گہری کبھی جلا تھا، اس کی بنیاد پر جو نغمات رہ گئے تھے، وہ پرانے پڑ جاتے ہیں. پھر ایک نیا چراغ جلتا ہے. نئی روشنی آتی ہے. نیا گیت پھٹتا ہے. نئی دریا بہتی ہے. سب کچھ نیا ہو جاتا ہے. تو کہیں گے کہ تم جانو یا نہ جانو، تم سب مذہب کے راستے پر ہی ہو. کوئی شخص ایسا نہیں جو مذہب کے راستے پر نہیں ہے.
یہ اور بات ہے کہ اسے معلوم ہے، یا نہیں جانتے. لیکن مذہب کا عنصر کیا ہے؟ مذہب کا اصل کیا ہے؟ مل پہنچنا ہے ہمیں؟ منزل کہاں ہے؟
''اس بات کو بتانے کے لئے ہی سنت، ولی اس زمین پر آتا ہے. سوامی وویک آنند جی بھی آئے. اور یہ یاد دلانے کے لئے آتا ہے ولی کہ تم کون ہو؟
جو ہمارے اندر ہے، اس کی طرف ہم پیٹھ کر جیتے ہیں. مہرشی نارد کی طرح پھر کوئی ولی آتا ہے ہمارے درمیان. کبھی بدھ، کبھی مہاویر، کبھی کرشن، کبھی رام، کبھی گرنانك، کبھی بلے، کبھی کبیر، فرید کبھی رحیم بن کر آتا ہے اور یہی بتانے کے لئے آتے ہیں سنت کہ تم کون ہو۔۔۔۔؟
-
اوشو
www.facebook.com/Oshourdu


کوئی تبصرے نہیں: