عمر خیام ایک اہم صوفی فقیر، اپنی رباعیات میں لکھتا ہے:---''میں پینے جارہا ہوں، میں رقص کرنے جارہا ہوں، میں محبت کرنے جارہا ہوں۔ میں ہر قسم کا گناہ کرنے جارہا ہوں، کیونکہ مجھے بھروسہ ہے کہ خدا رحم والا ہے، وہ معاف کرنے والا ہے، میرے گناہ تو بہت چھوٹے محدود ہیں ، اسکی معافی لامحدود ہے''-جب مولویوں کو اس کی کتاب کے حوالے سے پتہ چلا۔ ُاس وقت کے لحاظ سے کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھی چھپائی کا کوئی آلہ نہیں تھا، جب مولویوں کو پتہ چلا کہ وہ اس طرح کی گستاخانہ چیزیں لکھ رہا تھا،کہ عمرخیام کہ رہا تھا:
-
''پریشان مت ہونا، جو تم کرنا چاہتے ہو اسے کرو، خدا کچھ بھی نہیں ایک پاک محبت کے، تم سترسال میں کتے گناہ کرپاؤگے؟ اسکی معافی کے سامنے ستر سال کچھ بھی نہیں۔۔''
-
وہ اپنے وطن میں ایک مشہور ریاضی دان بھی تھا ۔ عالمدین نے اس تک رسائی حاصل کی اور کہا:
یہ تم کیسی چیزیں لکھ رہے ہو؟ تم تو لوگوں کی خدا پرستی کو برباد کرہے ہو، لوگوں میں خوف - ڈر پیدا کرو، لوگوں کو بتاؤ کہ اگر تم گناہ کرنے میں لگے رہوگے، تو تمہیں سزا ملے گی، گناہ گاروں کے لئے کوئی رحم نہیں ہے۔
-
عمر خیام کی کتاب جلا دی گئی تھی اس کے دن پر کیونکہ یہ شخص لوگوں کو خطرناک آئڈیل سکھا رہا تھا اگر یہ آئڈیل لوگوں کے درمیان پھلتا تو ہر کوئی اپنی زندگی میں جشن ۔ خوشیاں مناتا۔
پھر ان مولویوں کا کیا ہوتا؟ ان پنڈوں کا کیا ہوتا؟ ان مزہبی رہمناؤ کا کیا ہوتا ؟ پھر انکے دیوتاؤں کے قصوں کا کیا ہوتا؟ ۔ ایک ہوا کے جہونکے کے ساتھ سب کچھ غائب ہوجاتا۔ کم از کم میں بھی۔۔
عمر خیام ایک منور صوفی تھے اور جو کچھ اس نے کہا اس میں لامحدود سچائی ہے۔۔۔
اس کے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ تم گناہ کرنے میں لگ جاؤ، اس کے کہنے کا سادہ سہ مطلب یہ تھا کہ خود کو(guilty) مجرم مت (feel) تصور کرو۔ جو کچھ بھی تم کرو، اگر یہ صحیح نہیں تو دوبارہ مت کرو، مگر خود کو مجرم ، گناہ گار محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خود کو اذیت اور توبہ کفارہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔-''پریشان مت ہونا، جو تم کرنا چاہتے ہو اسے کرو، خدا کچھ بھی نہیں ایک پاک محبت کے، تم سترسال میں کتے گناہ کرپاؤگے؟ اسکی معافی کے سامنے ستر سال کچھ بھی نہیں۔۔''-وہ اپنے وطن میں ایک مشہور ریاضی دان بھی تھا ۔ عالمدین نے اس تک رسائی حاصل کی اور کہا:یہ تم کیسی چیزیں لکھ رہے ہو؟ تم تو لوگوں کی خدا پرستی کو برباد کرہے ہو، لوگوں میں خوف - ڈر پیدا کرو، لوگوں کو بتاؤ کہ اگر تم گناہ کرنے میں لگے رہوگے، تو تمہیں سزا ملے گی، گناہ گاروں کے لئے کوئی رحم نہیں ہے۔ -عمر خیام کی کتاب جلا دی گئی تھی اس کے دن پر کیونکہ یہ شخص لوگوں کو خطرناک آئڈیل سکھا رہا تھا اگر یہ آئڈیل لوگوں کے درمیان پھلتا تو ہر کوئی اپنی زندگی میں جشن ۔ خوشیاں مناتا۔ پھر ان مولویوں کا کیا ہوتا؟ ان پنڈوں کا کیا ہوتا؟ ان مزہبی رہمناؤ کا کیا ہوتا ؟ پھر انکے دیوتاؤں کے قصوں کا کیا ہوتا؟ ۔ ایک ہوا کے جہونکے کے ساتھ سب کچھ غائب ہوجاتا۔ کم از کم میں بھی۔۔عمر خیام ایک منور صوفی تھے اور جو کچھ اس نے کہا اس میں لامحدود سچائی ہے۔۔۔اس کے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ تم گناہ کرنے میں لگ جاؤ، اس کے کہنے کا سادہ سہ مطلب یہ تھا کہ خود کو(guilty) مجرم مت (feel) تصور کرو۔ جو کچھ بھی تم کرو، اگر یہ صحیح نہیں تو دوبارہ مت کرو، مگر خود کو مجرم ، گناہ گار محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خود کو اذیت اور توبہ کفارہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔
اوشو
عمر خیام ایک اہم صوفی فقیر، اپنی رباعیات میں لکھتا ہے:---''میں پینے جارہا ہوں، میں رقص کرنے جارہا ہوں، میں محبت کرنے جارہا ہوں۔ میں ہر قسم کا گناہ کرنے جارہا ہوں، کیونکہ مجھے بھروسہ ہے کہ خدا رحم والا ہے، وہ معاف کرنے والا ہے، میرے گناہ تو بہت چھوٹے محدود ہیں ، اسکی معافی لامحدود ہے''-جب مولویوں کو اس کی کتاب کے حوالے سے پتہ چلا۔ ُاس وقت کے لحاظ سے کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھی چھپائی کا کوئی آلہ نہیں تھا، جب مولویوں کو پتہ چلا کہ وہ اس طرح کی گستاخانہ چیزیں لکھ رہا تھا،کہ عمرخیام کہ رہا تھا:
-
''پریشان مت ہونا، جو تم کرنا چاہتے ہو اسے کرو، خدا کچھ بھی نہیں ایک پاک محبت کے، تم سترسال میں کتے گناہ کرپاؤگے؟ اسکی معافی کے سامنے ستر سال کچھ بھی نہیں۔۔''
-
وہ اپنے وطن میں ایک مشہور ریاضی دان بھی تھا ۔ عالمدین نے اس تک رسائی حاصل کی اور کہا:
یہ تم کیسی چیزیں لکھ رہے ہو؟ تم تو لوگوں کی خدا پرستی کو برباد کرہے ہو، لوگوں میں خوف - ڈر پیدا کرو، لوگوں کو بتاؤ کہ اگر تم گناہ کرنے میں لگے رہوگے، تو تمہیں سزا ملے گی، گناہ گاروں کے لئے کوئی رحم نہیں ہے۔
-
عمر خیام کی کتاب جلا دی گئی تھی اس کے دن پر کیونکہ یہ شخص لوگوں کو خطرناک آئڈیل سکھا رہا تھا اگر یہ آئڈیل لوگوں کے درمیان پھلتا تو ہر کوئی اپنی زندگی میں جشن ۔ خوشیاں مناتا۔
پھر ان مولویوں کا کیا ہوتا؟ ان پنڈوں کا کیا ہوتا؟ ان مزہبی رہمناؤ کا کیا ہوتا ؟ پھر انکے دیوتاؤں کے قصوں کا کیا ہوتا؟ ۔ ایک ہوا کے جہونکے کے ساتھ سب کچھ غائب ہوجاتا۔ کم از کم میں بھی۔۔
عمر خیام ایک منور صوفی تھے اور جو کچھ اس نے کہا اس میں لامحدود سچائی ہے۔۔۔
اس کے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ تم گناہ کرنے میں لگ جاؤ، اس کے کہنے کا سادہ سہ مطلب یہ تھا کہ خود کو(guilty) مجرم مت (feel) تصور کرو۔ جو کچھ بھی تم کرو، اگر یہ صحیح نہیں تو دوبارہ مت کرو، مگر خود کو مجرم ، گناہ گار محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خود کو اذیت اور توبہ کفارہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔-''پریشان مت ہونا، جو تم کرنا چاہتے ہو اسے کرو، خدا کچھ بھی نہیں ایک پاک محبت کے، تم سترسال میں کتے گناہ کرپاؤگے؟ اسکی معافی کے سامنے ستر سال کچھ بھی نہیں۔۔''-وہ اپنے وطن میں ایک مشہور ریاضی دان بھی تھا ۔ عالمدین نے اس تک رسائی حاصل کی اور کہا:یہ تم کیسی چیزیں لکھ رہے ہو؟ تم تو لوگوں کی خدا پرستی کو برباد کرہے ہو، لوگوں میں خوف - ڈر پیدا کرو، لوگوں کو بتاؤ کہ اگر تم گناہ کرنے میں لگے رہوگے، تو تمہیں سزا ملے گی، گناہ گاروں کے لئے کوئی رحم نہیں ہے۔ -عمر خیام کی کتاب جلا دی گئی تھی اس کے دن پر کیونکہ یہ شخص لوگوں کو خطرناک آئڈیل سکھا رہا تھا اگر یہ آئڈیل لوگوں کے درمیان پھلتا تو ہر کوئی اپنی زندگی میں جشن ۔ خوشیاں مناتا۔ پھر ان مولویوں کا کیا ہوتا؟ ان پنڈوں کا کیا ہوتا؟ ان مزہبی رہمناؤ کا کیا ہوتا ؟ پھر انکے دیوتاؤں کے قصوں کا کیا ہوتا؟ ۔ ایک ہوا کے جہونکے کے ساتھ سب کچھ غائب ہوجاتا۔ کم از کم میں بھی۔۔عمر خیام ایک منور صوفی تھے اور جو کچھ اس نے کہا اس میں لامحدود سچائی ہے۔۔۔اس کے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ تم گناہ کرنے میں لگ جاؤ، اس کے کہنے کا سادہ سہ مطلب یہ تھا کہ خود کو(guilty) مجرم مت (feel) تصور کرو۔ جو کچھ بھی تم کرو، اگر یہ صحیح نہیں تو دوبارہ مت کرو، مگر خود کو مجرم ، گناہ گار محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خود کو اذیت اور توبہ کفارہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں